12 جنوری 2015 - 16:52
دہشتگردی کے نشانہ بننے والے دہری پالیسیوں کے شکار، غاصب اسرائیل کا غلط فائدہ اٹھانا

فرانس میں ہونے والے حملے جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے اس کے چند دن بعد لبنان کے شہر طرابلس میں ایک کار بمب دہماکے میں 11 افراد جاں بحق اور درجوں زخمی ہوئے، مگر ان دونوں ہولناک واقعات میں تکفیری سوچ رکھنے والے انتہا پسند عناصر ہی ملوث ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  ايسا لگتا ہے دوہرہ رويہ اور پاليسي دنيا كي ہر جگے پر قابض ہے. اگر يورپ كے كسي كونے پر دہشتگردي كا واقعہ رونما ہو تو دنيا كے تمام ملك كو اس واقعے ميں نشانہ بننے والے افراد كے ساتھ اظہار يكجہتي كرنا ہوگا مگر اس وقت فلسطين، لبنان، شام، عراق اور يمن ميں صيہوني حمايت يافتہ دہشتگرد اور تكفيري عناصر بے گناہ عوام كو قتل كررہے ہيں ليكن عالمي رہنما صرف ايك بيان كي حد تك اس واقع كي مذمت كرتے ہيں.

پير كے روز لبناني اخبار السفير ميں شائع ہونے والي لبناني لكھاري ايلي فرزولي كے كالم ميں كہا گيا تھا كہ كسي كو شك نہيں كہ دنيا كے ہر كونے بشمول فرانس، لبنان اور شام ميں دہشتگردي كو جڑ سے اكھاڑنا چاہئے مگر كيا پيرس مارچ ميں ايسا كوئي پيغام سامنے نظر آيا يا نہيں.

مصيبت يہ بھي ہے كہ پيرس مارچ ميں جو نام نہاد ملكي سربراہ دہشتگردوں كي مالي حمايت كرتے ہيں، تكفيريوں كو پناہ ديتے ہيں وہ اس دہشتگردي كے خلاف مظاہرے ميں شريك تھے ، ہم يہ بھي كہہ سكتے ہيں كہ جنازے ميں قاتل بھي شريك ہوئے تھے.

بعض علاقائي ممالك كے سربراہان اس مارچ ميں شريك تھے اور سب سے مضحكہ خيز بات يہ تھي كہ اسرائيل كا معصوم بچوں كو قتل كرنے والا غنڈہ نيتن ياہو بھي مارچ كي پہلي صف ميں پہنچنے كے لئے ہاتھ پير ہلارہا تھا، شايد يہ بدمعاش شخص بھول گيا ہوگا كہ وہ اور اس كے غاصب حكمران دہشتگردوں كے مركزي حامي بنے ہوئے ہيں مگر خطے كے عوام كبھي يہ بات نہيں بھول سكتے.

كچھ لوگوں كا خيال ہے كہ پيرس مارچ كا اصل مقصد فرانسيسي حكومت كا ايك منصوبہ تھا تا كہ فرانسيسي عوام اپني حكمرانوں سے دہشتگردي كے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر كوئي سوال نہ كريں.

لبناني اخبار السفير نے كہا ہے كہ غاصب صيہوني حكمران پيرس حملے سے غلط فائدہ اٹھا كر كوشش كريں گے كہ فرانس ميں بسنے والے يہودي آبادي كو بيت المقدس كي سرزمين پر منتقل كريں.

لبناني وزير صحت 'وائل ابوفاعور' نے پيرس ميں منعقد ہونے والي دہشتگردي كے خلاف مارچ ميں اسرائيلي وزير اعظم نيتن ياہو كي شركت پر شديد رد عمل كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ اس مارچ ميں جہنم سے ايريل شيرون كو بھي بلانا چاہئے تھا.

وائل ابوفاعور ny مزيد كہا كہ لعنت ہو اس انصاف كي مہم جوئي پر جس ميں نيتن ياہو جيسا مجرم شريك ہو.

يونٹي مارچ ميں جس كي قيادت فرانسيسي صدر فرانسوا اولانڈ كررہے تھے ، غاصب اسرائيل وزيراعظم اور عالمي رياستي دہشگردوں كا سربراہ بينجمن نيتن ياہو پہلي صف ميں موجود تھا.

پيرس مارچ ميں نيتن ياہو كي شركت اس موقع پر ہوئي جب غاصب صيہوني حكمران داعش اور النصرہ فرنٹ جيسے تكفيري گروہوں كي كھلم كھلا حمايت كررہے ہيں اور اس كے علاوہ شام ميں زخمي ہونے والے دہشتگردوں كو بھي طبي امداد فراہم كرتے ہيں.

بعض ذرائع كا يہ كہنا ہے كہ فرانسيسي جريدے چارلي ايبڈو پر حملے ميں اسرائيل كا ہاتھ ہے.